2 فروری 2015 - 06:42
عراق: آئندہ سال کے بجٹ بل کی منظوری

عراق کی پارلمینٹ میں مختصر عصرے میں بجٹ بل کی منظوری سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ارکان پارلیمنٹ، ضرورت کے وقت اپنے اختلافات سے دوری اختیار کرتے ہوئے ملک کے اہم مسائل میں اتفاق رائے پیدا کرسکتے ہیں-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق عراق کی پارلیمنٹ میں مختلف جماعتوں اور گروہوں سے وابستہ ارکان کی جانب سے سنہ دو ہزار پندرہ کے چار سو چوبیس ارب عراقی دینار پر مشتمل بجٹ کی منظوری کو اس ملک کی مختلف سیاسی شخصیات بہت بڑی کامیابی قرار دے رہی ہیں- عراق کے اسپیکر سلیم الجبوری نے سن دو ہزار پندرہ کے بجٹ بل کی منظوری پر مسرت ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سن دو ہزار تین سے پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ بجٹ بل، پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے کے محض ایک مہینے کے اندر منظور ہوگيا ہے- عراق کے وزير اعظم حیدر العبادی نے بھی کم وقت میں بجٹ بل کی منظوری کو عراق میں حکومت اور پارلیمنٹ کے درمیان تعاون کے جذبے کا غماز قرار دیا- عراق کے سن دو ہزار پندرہ کے بجٹ بل  کے سلسلے میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اس میں کردستان علاقے کے لئے، اس کے سترہ فیصد حصے کے علاوہ بھی، پیشمرگہ ملیشیا اور حلبچہ صوبے کے لئے خصوصی بجٹ مدنظر رکھا گیا ہے کہ جس کا کردوں نے بھی خیر مقدم کیا ہے،  تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حیدر العبادی کی حکومت، سن دو ہزار پندرہ کے بجٹ میں کردوں کو زيادہ حصہ دے کر ملک میں سیاسی مفاہمت کو مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتی ہے خاص طور سے ایسے حالات میں کہ جب تمام عراقیوں کو داعش،  بلکہ دہشت گردی جیسے مشترکہ دشمن کا سامنا ہے- یہی وجہ ہے کہ عراق کی مجلس اعلی کے سربراہ سید عمار حکیم نے،  ہمارا دین اور ہماری دوستی کے نعرے کے ساتھ مختلف ادیان و مذاہب کے درمیان گفتگو کے زیر عنواں ایک کانفرنس کا اہتمام کیا، جس میں عراق کی مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے سربراہوں کے ساتھ ساتھ، عراق کی مختلف اہم شخصیات نے بھی شرکت کی - عراق کی مختلف شخصیات کی نظر میں سید عمار حکیم کی یہ کوشش، قومی اتحاد و یکجہتی کو مضبوط و مستحکم بنانے کیلئے ایک جدّت عمل شمار ہوتی ہے اور یہ ایک ایسا اہم مسئلہ ہے کہ جس کی موجودہ صورت حال میں عراق کو اشد ضرورت ہے-

.......

/169